Category Archives: بلاگ

جب اے پی ایس میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی

ے جب میں آرمی پبلک سکول پشاور کے گیٹ کے سامنے پہنچا ‘ پھولوں کے اس شہر میں کئی بار آ چکا تھا لیکن آج اس کی فضا میں ایک ناقابل بیان اداسی اور سوگواری پہناں تھی۔ میں گاڑی سے نیچے اترتا ہوں۔ گیٹ کے قریب ہی ایک دیوار کے ساتھ شہید بچوں کی تصویروں کے ساتھ پوسٹ کارڈ اور پھول رکھے ہوئے تھے اور شمعیں بھی روشن تھیں۔ بچے‘ عورتیں اور بوڑھے تمام سرجھکائے ہوئے کھڑے تھے۔ میں بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوئے جا کر ان کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہوں۔ شمعوں کی تھرتھراتی لو میں ان بچوں کی تصویروں کی طرف دیکھتا ہوں۔ یہ بچے ساری قوم کے بچے دہشت گردوں کی حیوانیت اور بربریت کا نشانہ بن کے جنت الفردوس میں پہنچ چکے تھے۔ دعائیہ کلمات آنسوؤں کے نہ رکنے والے سلسلے میں گڈ مڈ سے ہو گئے تھے۔ میں الٹے پاؤں واپس گاڑی میں بیٹھ جاتا ہوں۔ گاڑی رینگتے ہوئے سکول میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ اب میں اس جگہ کی طرف بڑھ رہا ہوں جہاں تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا خونچکاں واقعہ پیش آیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ انسانیت میں بڑے بڑے شقی القلب فاتحین اور جنگجو گزرے ہیں‘ تاریخ ظلم اور جابر حکمرانوں کے ادوار سے بھی بھری ہوئی ہے جنہوں نے مفتوح لوگوں کے سروں کے مینار بنائے۔ پھر ہماری گزشتہ ایک دہائی بھی دہشت گرد وں کے ہاتھوں معصوم انسانوں کے خون سے کھیلی گئی ہولی کے واقعات سے بھری ہوئی ہے لیکن اس واقعے‘ جس نے نہ صرف پاکستان بھر کے عوام بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کو رلا دیا ہے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں خون کے دھبے جابجا نظر آ رہے ہیں۔ میں اس مقدس خون شہداء سے بچ کر گزرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ مبادا میرا پاؤں کسی شہید کے مقدس خون پر پڑ جائے۔
آڈیٹوریم میں داخل ہوتے ہی معصوموں کے خون کی مہک میرے نتھنوں سے ٹکراتی ہے او رمیں بمشکل اپنے جذبات کو قابو کرتا ہوں۔ میری زبان گنگ ہو چکی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں جم چکی ہیں اور میں حیران و پریشان‘ دکھ اور غم کے ساتھ ساتھ ایک نفرت اور غصے کی آگ میں سلگنے لگتا ہوں۔ خدایا یہ منظر کیا ہے۔ میں چشم تصوّر سے یہاں معصوم بچوں کو اپنے سکول یونیفارم میں کرسیوں پر بیٹھا دیکھ رہا ہوں۔ ان کی معصوم سرگوشیاں گونج رہی ہیں۔ ان کی اساتذہ ان کو خاموشی کی تلقین کرتی ہوئی آڈیٹوریم میں دیئے جانے والے لیکچر کی طرف دھیان کی تلقین کر رہی ہیں اور پھر اچانک کچھ وحشی دندناتے ہوئے آتشیں اسلحے سے لیس آن پہنچتے ہیں اور معصوم اور کم عمر بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہر طرف ایک قیامت کا منظر ہے۔
یہ 16دسمبر کی ایک سرد صبح تھی۔ آرمی پبلک سکول پشاور کی صبح باقی تمام صبحوں میں ممیز تھی۔ معمول کے مطابق اسمبلی ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ کے کلمات کا اختتام‘ کلاسز کا اجراء اور پھر دس بجے اس آڈیٹوریم میں بچوں کے لئے فسٹ ایڈ کی فراہمی کے موضوع اور طریقہ کار پر ایک معلوماتی لیکچر تھا۔ نائیک ندیم الرحمن اور سپاہی نوید اقبال جن کا تعلق 137میڈیکل بٹالین سے تھا ان بچوں کو لیکچر دینے میں مشغول تھے۔ ابھی پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ جب درندوں نے اس آڈیٹوریم میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس ہال میں آٹھویں نویں اور گیارھویں کلاسز کے بچے موجود تھے۔ ہال میں بکھرے ہوئے جوتے‘ کاپیاں‘ کتابیں‘ معصوم بچوں کے نظر کے گلاسز اور ان کی دوسری اشیاء اس قیامت خیزلمحے کی داستان کی شاہد تھیں۔ کہیں کہیں اب بھی ان معصوموں کے خون کے چھوٹے چھوٹے تالاب بنے ہوئے تھے۔ دیواریں فائرنگ سے چھلنی تھیں۔
حادثے کے فوراً بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کوئٹہ کا دورہ مختصر کر کے پشاور پہنچ گئے۔ وزیراعظم پاکستان کے ساتھ خصوصی ملاقات میں جیلوں میں بند دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے لئے طریقہ کار وضع کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ملکی سیاسی قیادت اپنے اختلافات بھلا کر اس سانحے کے غم میں اکٹھے ہو گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیاجائے گا اور پھر ان کے دورہ افغانستان کے بعد دہشت گردوں کے گرد حصار تنگ ہونے لگا۔ اب تک تیراہ وادی سمیت دوسرے علاقوں میں 150سے زائد دہشت گرد واصل جہنم کئے جاچکے ہیں۔
میں وہاں سے سکول کے دوسرے حصوں کی طرف جاتا ہوں ۔ایڈم بلاک میں پرنسپل میڈم طاہرہ قاضی کا دفتر اور اس سے ملحقہ دوسرے دفاتر بھی اس درندگی اور بربریت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ اس دفتر میں طاہرہ قاضی نے دہشت گردوں سے بچوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ا ور پھر اپنے نونہالوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔
16دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں ویسے بھی ایک تاریک باب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی دن 1971کو ہمارامشرقی بازو اپنوں کی نادانیوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کے باعث جدا ہوا۔ دشمن نے گویا ایک بار پھر ہمارے مندمل ہوتے زخم کو کریدا اور ہمارے دل پر وار کر دیا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا صرف فوج کی جنگ ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ تین دہائیاں قبل اس خطے کے معروضی حالات کچھ اور تھے۔ آج کے یہ نام نہاد مذہبی گروہ اسلام کی آڑ میں دہشت گردی کے کاروبار سے منسلک ہیں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی اکثریت کو کلمہ طیبہ تک نہیں آتا۔
سکول پر حملے کی خبر نے پوری قوم کو ایک سکتے اور صدمے کا شکار کر دیا تھا۔ لوگ اذیت اور کرب کے ساتھ ٹیلی ویژن کی سکرینوں کے ساتھ چپکے ہوئے تھے اور ہر لمحہ شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ان کے ہیجان اور کرب کو بڑھا رہا تھا اور پھر آرمی آپریشن کے خاتمے تک اگرچہ تمام حملہ آور واصل جہنم ہو چکے تھے لیکن ہمارے نوخیز پھول بھی مسلے جا چکے تھے جن کی تعداد اس وقت 145تک پہنچ چکی تھی۔ جو بعد ازں 150ہو گئی تھی۔ اس میں سکول کے آٹھ اساتذہ آٹھ سٹاف کے ممبران اور 134بچے ہیں۔
آرمی پبلک سکول کی یہ عمارت بظاہر چاروں طرف سے محفوظ تھی۔ اونچی اونچی دیواروں پر خاردار تاریں لگا کر اس کو مزید محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن درندوں کو روکنے کے لئے غالباً یہ انتظامات کافی نہ تھے۔ وہ افغان کالونی کے ساتھ ایک خالی پلاٹ کے ساتھ منسلک دیوار پر چڑ ھ کر خاردار تار کو کاٹنے کے بعد راستہ میں آنے والے سکول سٹاف کو نشانہ بناتے ہوئے آڈیٹوریم‘ سکول کمپیوٹر لیب اور ایڈم بلاک میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے بلاامتیاز ہر ایک کو نشانہ بنایا۔
افشاں سحر اردو کی ٹیچر تھی۔ جب وحشی درندے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے تو وہ بچوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔ دہشت گردوں نے اس کے سر میں گولی مارنے کے بعد پورے جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی لیکن جاں جانِ آفرین کے سپرد کرنے سے پہلے وہ بہادری کی لازوال داستان رقم کر کے امر ہو گئی۔ بریگیڈیئر طارق سعید کی زوجہ صائمہ‘ جو آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں‘ نے بھی دہشت گردوں کو مسدود کرنے کی اپنی سی سعی و کوشش کی۔ دہشت گردوں نے ان کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے فاسفورس پھینک کر آگ لگا دی۔ غرضیکہ تمام اساتذہ نے اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ان درندوں کی بربریت سے بچا سکیں۔ انہی کوششوں کی وجہ سے جونیئر سیکشن کے بچے بحفاظت سکول سے نکال لئے گئے۔ اگرچہ ضرار کمپنی اور QRFکی ہنگامی کوششوں سے نقصان کو محدود کرنے کی تمام کوششیں کی گئیں لیکن پھر بھی قوم کو ایک ناقابل تلافی صدمہ اور نقصان پہنچ چکا تھا۔
سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زخمی بچوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک موجود ہے۔ سکول کے علاوہ اِن جگہوں پر بھی ملاقاتیوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔ جس میں ملکی و غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کے علاوہ سیاسی و غیرسیاسی حضرات کی بھی ایک کثیر تعداد تھی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان بچوں نے کمال حوصلے اور متانت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے لواحقین نے بھی ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے استدعا کی کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے دہشت گردوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
لیکن بدقسمتی سے آج بھی ہمارے معاشرے میں کچھ مذہبی طبقات اور پارٹیاں دہشت گردی کا جواز پیش کرتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام کے کسی ملک میں بھی محراب و منبر کو اس قدر آزادی حاصل نہیں جو کہ پاکستان میں ہے۔ آج ہمیں مذہب کے ان ٹھیکیداروں کے خلاف بھی اپنا حصار تنگ کرنا ہو گا جو دہشت گردی اور منافرت کے اس کاروبار میں برابرکے حصے دار ہیں۔ ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات کو درست کرنا ہوگا۔ تمام مدارس کو حکومتی اثر میں لانا ہو گا۔ محراب و منبر کی سمت کی درستی کے لئے خصوصی قوانین لانا ہوں گے۔ بلکہ قوانین تو موجود ہیں بس ہم ان کا اطلاق نہیں کر پا رہے۔ اگر ہم اپنے خطے کے اسلامی ممالک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں پر لاوڈسپیکر کے استعمال اور مسجد کے دوسرے معاملات صریحاً حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ یہاں پر میں ترکی کا ذکر کرنا چاہوں گا جو ایک اسلامی ملک ہے اور ہمارے ساتھ مذہبی‘ سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی معاملات میں صدیوں سے منسلک ہے۔ وہاں پوری طرح سے حکومتی رٹ موجود ہے۔ دنیا بھر میں کسی خطے میں بھی ترک کمیونٹی ‘ ترک حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد کی تعمیر نہیں کر سکتی۔ یہ اقدامات مذہب کے خلاف نہیں صرف سوسائٹی میں لانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔
اگر ہم نے فرد‘ معاشرے‘ مذہب اور سیاست کے درمیان ایک متوازن اور پرامن تعلق کی روایت قائم نہ کی تو شہیدوں کا خون ہمیں معاف نہیں کرے گا ۔ نیز ہمارے سارے ملٹری آپریشنز گویا درختوں کی شاخوں کی کٹائی کے مصداق ہوں گے جبکہ دہشت گردی کے تنے اسی طرح بڑھتے اور پھلتے پھولتے رہیں گے۔