طیبہ تشدد کیس، مرکزی ملزمان نے والدین کو پیسے دے کر بچی کو گھر پر لانے کا اعتراف کرلیا

طیبہ تشدد کیس کے مرکزی ملزمان جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین بی بی نے پولیس کو بیان جمع کرادیا جس میں انہوں نے والدین کو پیسے دے کر طیبہ کو گھر پر لانے کا اعتراف کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جج اور ان کی اہلیہ کی جانب سے پولیس کو جمع کرائے گئے بیان میں جج صاحب نے طیبہ پر تشدد کو کسی بڑے مافیا کی کارستانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی خود انکوائری کر کے حقائق سامنے لاﺅں گا۔ انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ ڈیڑھ سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کیلئے پیسے دے کر بچی کی کفالت لی اور طیبہ کے والدین کو 12 ہزار روپے ادا کیے۔ اہلیہ رحمدل خاتون ہیں اور طیبہ کو اپنے بچوں کی طرح رکھا، بچی کو چاکلیٹ، ٹافیاں کھلاتے اور جوس پلاتے تھے۔پڑوسی خضر حیات سے بھی طیبہ کا رابطہ تھا، 27 دسمبر کو بچی گم ہوئی جس کی 28 دسمبر کو رپورٹ درج کرائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *